ویسٹ انڈیز کی تاریخی مزاحمت، جسٹن گریوز کی ڈبل سنچری نے نیوزی لینڈ کے خلاف یقینی شکست بچالی، پہلا ٹیسٹ ڈرا
کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کی شاندار مزاحمتی بیٹنگ کے باعث ڈرا ہوگیا۔ نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 531 رنز کا مشکل ہدف دیا تھا، تاہم ویسٹ انڈیز کے بیٹرز نے غیر معمولی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کو بچا لیا۔
ویسٹ انڈیز نے چوتھی اننگز میں 163.3 اوورز تک ڈٹے رہتے ہوئے 6 وکٹوں پر 457 رنز بنائے، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز کا دوسرا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔ جسٹن گریوز 388 گیندوں پر 202 رنز کی شاندار ناقابلِ شکست ڈبل سنچری کے ساتھ کریز پر موجود رہے جبکہ کیمار روچ نے 233 گیندوں پر 58 رنز بنا کر ٹیم کو شکست سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ساتویں وکٹ کی 180 رنز کی تاریخی شراکت نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔
اس سے قبل شائے ہوپ نے بھی 140 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ٹیم کی مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ 72 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد شائے ہوپ اور جسٹن گریوز نے 196 رنز کی شاندار پارٹنرشپ قائم کی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب ڈفی نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ میٹ ہینری، زیک فولکس اور مائیکل بریسویل نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے دوسری اننگز 466 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی تھی، جس میں رچن رویندرا نے 176 اور کپتان ٹام لیتھم نے 145 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ 231 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی۔
ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز 167 رنز پر سمٹی، جہاں شائے ہوپ 56 اور ٹیگنارائن چندرپال 52 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز کو تاریخی ڈبل سنچری اور میچ بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

