پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹی20 کپتان سلمان علی آغا کی قائدانہ صلاحیتوں نے بورڈ حکام اور تھنک ٹینک کو مکمل طور پر مطمئن کر دیا ہے، جس کے بعد ان کے ٹی20 ورلڈکپ 2026 تک کپتان برقرار رہنے کے امکانات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حکام کو ٹیم کی ’’فائٹنگ اسپرٹ‘‘ نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کھلاڑی یکجا ہو کر کھیل رہے ہیں، جبکہ ماضی میں ٹیم میں ایسی ہم آہنگی نظر نہیں آتی تھی۔ ایک اعلیٰ پی سی بی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ سلمان علی آغا ہی میگا ایونٹ میں کپتان ہوں گے، کیونکہ ان کی قیادت میں ٹیم میں نیا جذبہ اور کمبی نیشن ابھر کر سامنے آیا ہے۔
تھنک ٹینک کے ایک اور رکن نے کہا کہ سلمان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ٹیم کو دوبارہ ’’وننگ ٹریک‘‘ پر ڈال دیا ہے۔ ان کے دور میں کھلاڑی ایک دوسرے کے لیے کھیلتے نظر آتے ہیں، اس لیے کپتانی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
یاد رہے کہ سلمان علی آغا نے 40 میں سے 38 ٹی20 انٹرنیشنل میچز بطور کپتان کھیلے ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان نے 23 فتوحات حاصل کیں، اور وہ ملک کے تیسرے کامیاب ترین ٹی20 کپتان بن گئے۔ ان سے آگے بابر اعظم (48 فتوحات) اور سرفراز احمد (29 فتوحات) ہیں۔
بطور بیٹر ان کی کارکردگی پر کچھ سوال اٹھے لیکن حالیہ سہ ملکی سیریز میں سری لنکا کے خلاف ان کی 63 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز قابل ذکر رہی۔ پاکستان نے سلمان کی زیر قیادت سہ ملکی سیریز جیتی اور ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔
دوسری جانب، دورہ سری لنکا کے لیے شاداب خان کی بطور کھلاڑی واپسی متوقع ہے۔ شاداب کندھے کی سرجری کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور ٹریننگ کر رہے ہیں۔ بگ بیش لیگ کے دوران ان کی میچ فٹنس کا مزید جائزہ لیا جائے گا، جہاں وہ 14 دسمبر سے ایکشن میں دکھائی دیں گے۔
خیال رہے کہ وہ آخری مرتبہ جون میں بنگلادیش کے خلاف ہوم سیریز میں کھیلتے نظر آئے تھے۔
واضح رہے کہ یہ بڑا ایونٹ فروری اور مارچ 2026 میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے، اور اس وقت تک قیادت میں تبدیلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر دکھائی دے رہے ہیں۔

