اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں، خیبرپختونخوا بانی پی ٹی آئی کے وژن پر چل رہا ہے: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی اور راج کی ضرورت نہیں، یہاں پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کا وژن اور نظام نافذ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وفاق میں ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائے، صوبائی حکومت کسی دباؤ یا دھمکی سے نہیں ڈرتی۔
حیات آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کا احساس اور وژن ہی ہماری حکمرانی کا محور ہے۔ کپتان کی ہدایت پر زکوٰة فنڈ میں موجود رقوم فوری طور پر مستحقین میں تقسیم کی جارہی ہیں جبکہ ضم اضلاع کے معذور افراد کو معاونتی آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت یہ تمام اقدامات اپنے وسائل سے کر رہی ہے، حالانکہ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 3 ہزار ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔ “سوچیں اگر وفاق ہمارے بقایاجات ادا کر دے تو ہم عوام کے لیے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔”
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر 5300 ارب روپے کی کرپشن کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ ہم عوام کو ریلیف دے رہے ہیں پھر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تقریب میں وزیراعلیٰ نے “احساس امید پروگرام” کا باقاعدہ افتتاح کیا، جس کے تحت 10 ہزار شدید معذوری کے شکار افراد کو فی کس 5 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ پروگرام پر جنوری سے جون 2026 تک 30 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
اس موقع پر انہوں نے 23 نئی گاڑیاں بھی محکمہ سوشل ویلفیئر کے حوالے کیں جو 54 خصوصی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کریں گی۔ ان گاڑیوں میں 12 منی بسیں اور 11 ہائی ایس شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر 37.7 کروڑ روپے لاگت آئی۔
بریفنگ کے مطابق، معاونت کی رقوم بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے براہِ راست مستحقین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوں گی، جبکہ مستحقین کا انتخاب زکوٰة مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 2 ہزار الیکٹرک وہیل چیئرز، 2500 مینول وہیل چیئرز، 800 ٹرائی سائیکلیں، 3600 سلائی مشینیں، 617 سماعت کے آلات، 102 وائٹ کینز، 44 بیساکھیاں اور 96 واکرز فراہم کیے جاچکے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 76 کروڑ روپے لاگت آئی۔
ایک اور تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صوبے کے ہر محکمے میں خصوصی افراد خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ ضم اضلاع کے اسپیشل اسکولوں کو بھی بسیں فراہم کی جائیں گی اور جنگی حالات کے دوران معذور ہونے والے افراد کی ایک ارب روپے سے معاونت کی جائے گی۔

