اسلام آباد: وفاقی نظامتِ تعلیمات کے ماتحت ماڈل سکولز، کالجز اور دیگر 422 تعلیمی اداروں میں اچانک بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جن کے تحت 818 اساتذہ کی پوسٹوں کو وائس پرنسپل کے عہدے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے اداروں میں اختیارات کی ایک نئی جنگ چھڑ گئی ہے۔
جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وفاقی نظامتِ تعلیمات کے پاس موجود 2000 تدریسی پوسٹوں میں سے 818 اسامیوں کو وائس پرنسپل میں اپ گریڈ کر دیا گیا۔ گریڈ 20 میں پرنسپل کی 8 پوسٹیں بڑھا کر 24 کر دی گئیں، جبکہ گریڈ 19 میں پرنسپل کی 122 سیٹوں کو بڑھا کر 361 کر دیا گیا۔ گریڈ 18 میں وائس پرنسپل کی تعداد 277 تھی، جسے اب بڑھا کر 818 کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایس ایس ٹی کی 2000 سیٹوں میں سے صرف 1204 اساتذہ ہی باقی رہ گئے۔
دستاویزات کے مطابق، بعض اداروں میں ایک ہی سکول میں 18 سے زائد وائس پرنسپل تعینات کر دیے گئے ہیں، جس سے نہ صرف ایس ایس ٹی کی سیٹیں ختم ہو گئیں بلکہ سیکنڈری اور ایلمنٹری ٹیچرز (گریڈ 16 اور گریڈ 14) کی ترقی کے راستے بھی محدود ہو گئے ہیں۔
آئی ایم سی جی I-9/1 میں ایس ایس ٹی کی 49 پوسٹیں تھیں جن میں سے 19 کو وائس پرنسپل بنا دیا گیا۔ آئی ایم سی جی G-6/4 میں 32 اساتذہ میں سے 12 کو وائس پرنسپل بنا دیا گیا۔ اسی طرح آئی ایم سی بی نمبر 1 I-9/4 میں 45 میں سے 16 اور آئی ایم سی بی G-7/2 میں 29 میں سے 11 اساتذہ کو یہ عہدہ دے دیا گیا۔
وفاقی نظامتِ تعلیمات کے ماتحت 422 دیگر ادارے پہلے ہی اساتذہ کی شدید کمی سے دوچار ہیں، مگر اس نئی پالیسی کے باعث ایک وائس پرنسپل کی قانونی نشست کے بجائے اٹھارہ اٹھارہ وائس پرنسپل بنا دینے سے نہ صرف انتظامی انتشار پیدا ہوا ہے بلکہ یہ سوال بھی جنم لے چکا ہے کہ ان تمام افراد کو وائس پرنسپل کے مساوی مراعات کیسے دی جائیں گی اور اصل ذمہ داریاں کس کے حصے میں آئیں گی۔

