موجودہ حکومت مغرب کے ایجنڈے پر چل رہی ہے، 27ویں ترمیم جعلی اکثریت سے منظور ہوئی: مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مردان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ جن پر مغربی ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام لگایا جاتا تھا، حقیقت میں آج کی حکومت اسی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قومی سیاست، معیشت اور آئینی فیصلوں کو طاقتور حلقوں کی مرضی کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا جس میں انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی تجویز دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ایسے شخص کو امن کا ایوارڈ دلوانے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اپنے پالیسی رویوں کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ مسلح جدوجہد اور جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے مطابق افغان پالیسی 78 برسوں میں بھی کامیاب نہ ہو سکی اور دونوں ممالک مستقل بےاعتمادی کے ماحول میں پھنسے ہوئے ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے ملکی معاشی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور ملک وہ نہیں رہا جس کی بنیاد عوام نے امیدوں کے ساتھ رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوام حقوق مانگ رہے ہیں، مگر فیصلے عوامی خواہشات کے بجائے چند طاقتور طبقات کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا کہ 27ویں آئینی ترمیم جعلی اکثریت کے ذریعے منظور کی گئی اور اس کے لیے ارکان کو خریدا گیا۔ ان کے مطابق آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے اور ریاستی فیصلوں میں شفافیت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مغربی ایجنڈے پر عمل درآمد کر رہی ہے، جبکہ الزام ماضی میں بانی پی ٹی آئی پر لگتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو یکجہتی، خودمختاری اور حقیقی عوامی حکمرانی کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے۔