اے ٹی سی میں عمران خان سے ملاقات اور شوکت خانم اکاؤنٹس کیس کی سماعت، پی ٹی آئی کا کوئی وکیل پیش نہ ہوا
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات اور شوکت خانم اسپتال کے بینک اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے سے متعلق دو درخواستوں پر سماعت ہوئی، تاہم پی ٹی آئی کا کوئی وکیل عدالت میں پیش نہ ہوسکا۔
یہ درخواستیں علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کی جانب سے گزشتہ روز جلد سماعت کیلئے دائر کی گئی تھیں، جس پر عدالت نے آج کیلئے نوٹس جاری کیے تھے۔ سماعت کے دوران جج امجد علی شاہ اور پراسیکیوشن ٹیم پی ٹی آئی وکلا کا انتظار کرتی رہی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عدالت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے مگر جب سماعت ہوتی ہے تو کوئی وکیل عدالت میں موجود نہیں ہوتا۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگر پیش نہیں ہونا تو پھر فوری سماعت کی درخواستیں کیوں دائر کی جاتی ہیں؟ بعدازاں عدالت نے دونوں درخواستوں کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب، انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت سے متعلق درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 37 روز سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک پر مشاورت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بہن علیمہ خان سمیت وکلا سلمان اکرم راجہ اور فیصل ملک کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔
عدالتی حکام نے واضح کیا کہ ملاقات کا معاملہ جیل مینوئل کے مطابق طے ہوتا ہے جبکہ شوکت خانم اسپتال کے اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کی درخواست کو علیمہ خان کے کیس کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج عمران خان کی سات ضمانتوں کی سماعت تھی مگر پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر معاملہ 6 دسمبر تک مؤخر کردیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوکت خانم کے اکاؤنٹس منجمد ہونے سے میڈیسن کی خریداری رک گئی ہے اور کینسر کے مریض ادویات نہ ملنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
فیصل ملک کا کہنا تھا کہ اگر ادویات نہ ملنے کے باعث کوئی مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی، اسی لیے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اکاؤنٹس فوری کھولنے کا حکم دیا جائے۔

