پاک فوج کی کارروائیاں: خیبر پختونخوا سے امریکی و نیٹو اسلحہ برآمد، دہشتگردوں کا جدید ہتھیاروں سے لیس نیٹ ورک بے نقاب
پشاور: پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں سے بڑی مقدار میں جدید امریکی اور نیٹو اسلحہ برآمد کرلیا ہے، جو پہلے افغانستان میں استعمال ہوتا رہا تھا۔ برآمد ہونے والا یہ اسلحہ میڈیا کے سامنے بھی پیش کردیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مختلف آپریشنز میں قبضے میں لیے گئے اس اسلحے میں ایم 4، ایم 16، خودکار رائفلیں، نائٹ وژن گاگلز، جدید آلات، اعلیٰ معیار کا دھماکا خیز مواد، تاریں اور دیگر سامان شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ امریکی افواج اور نیٹو کے زیرِ استعمال رہا ہے، جس پر واضح طور پر درج ہے کہ یہ امریکی حکومت کی ملکیت ہے۔
ذرائع کے مطابق، دہشتگرد تنظیم "فتنۃ الخوارج” اس اسلحے کا استعمال دور سے پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے کرتی ہے۔ ان ہتھیاروں میں موجود اسٹیل ہیڈ گولیاں بلٹ پروف جیکٹس کو بھی چیرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ نائٹ وژن آلات دہشتگردوں کو رات کے وقت کارروائیوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ امریکی ہتھیار افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلا کے دوران چھوڑے گئے تھے، جنہیں بعد میں افغان طالبان نے دہشتگرد گروہوں کے حوالے کیا۔ یہ اسلحہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق، برآمد ہونے والے ہتھیاروں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ مزید کارروائیاں بھی جاری ہیں تاکہ دہشتگرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے اثر کیا جا سکے۔

