الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز اور مقامی پولیس کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے بھی اسی سلسلے میں تفصیلی ہدایات جاری کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو مختلف درجوں میں تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 22 سے 24 نومبر تک پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو اسٹینڈ بائی اور ریسپانس موڈ میں رکھا جائے گا، جبکہ رینجرز کو فوری ردعمل یونٹس (Quick Reaction Force) کے طور پر تیسری دفاعی لائن میں خدمات فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 218(3) اور آرٹیکل 220 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے عسکری و سول افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات بھی تفویض کیے ہیں۔ ان اختیارات کے تحت افسران 22 تا 24 نومبر کے دوران ضابطہ فوجداری کی دفعہ 190(1) کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی، ہنگامی صورتحال یا جرم کی صورت میں فوری کارروائی کر سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام تعینات فورسز کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 کے تحت مکمل اختیارات حاصل ہوں گے، تاکہ انتخابی دنوں کے دوران قانون شکن سرگرمیوں، ہنگامہ آرائی اور غیر قانونی مداخلت کو بروقت روکا جا سکے اور انتخابی ماحول پرامن رکھا جائے۔
سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی درج ذیل حلقہ جات میں کی جائے گی:
PP-115 فیصل آباد، PP-116 فیصل آباد، PP-269 مظفرگڑھ، NA-185 ڈیرہ غازی خان، NA-18 ہری پور، PP-73 سرگودھا، NA-96 فیصل آباد، NA-104 فیصل آباد، NA-143 ساہیوال، PP-98 فیصل آباد، PP-203 ساہیوال، NA-129 لاہور اور PP-87 میانوالی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ضمنی انتخابات کو شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ماحول میں منعقد کرنا ہے، جبکہ ہر سطح پر بدعنوانی، دباؤ اور بدنیتی کے امکانات کو ختم کرنا بنیادی ترجیح ہے۔

